امریکی قدامت پسند تجزیہ کارچارلی کرک کا قاتل تاحال گرفتار نہ کیاجاسکا۔ ایف بی آئی نے قتل کی تحقیقات میں مشتبہ شخص کی تصاویر جاری کردیں۔
ایف بی آئی نے چارلی کرک کے قاتل کی اطلاع فراہم کرنے اورگرفتاری میں مدد کرنے والےکو ایک لاکھ ڈالر انعام دینے کا اعلان کیا ہے
مریکی حکام نے گزشتہ روز بھی چارلی کرک پر قاتلانہ حملے میں 2 مشتبہ افراد کو گرفتار کیا تھا جنہیں تفتیش کے بعد رہا کردیا گیا۔ صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ چارلی کرک کا قاتل جلد گرفتار کرلیا جائے گا۔
یاد رہے کہ صدر ٹرمپ کے قریبی ساتھی اور اسرائیل نواز چارلی کرک کو گزشتہ روز یوٹا یونیورسٹی میں تقریرکے دوران گولی ماری گئی تھی۔
ادھر عینی شاہدین نے غیر ملکی میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ چارلی کو اس وقت گولی ماری گئی جب وہ گن کنٹرول اور ہجوم پر فائرنگ کے موضوع پر بات کر رہے تھے۔
چارلی کرک ایک قدامت پسند شخصیت تھے اور وہ امریکی صدر کے کافی قریبی ساتھی سمجھے جاتے تھے۔
رپورٹس کے مطابق چارلی کرک ‘ٹرننگ پوائنٹ یو ایس اے’ نامی تنظیم کے بانی بھی تھے، 2012 میں قائم کی گئی یہ تنظیم تعلیمی اداروں میں قدامت پسند نظریات کو فروغ دیتی ہے۔