مانچسٹر: پریمیئر لیگ میں کھلاڑی کو اپنی ہی ٹیم کے ساتھی کھلاڑی کے ساتھ جھگڑنے پر ریڈ کارڈ دے کر میدان سے باہر بھیج دیا گیا۔
یہ واقعہ پیر کو پریمیئر لیگ میں ایورٹن اور مانچسٹر یونائیٹڈ کے خلاف اولڈ ٹریفورڈ میں کھیلے گئے میچ کے دوران پیش آیا۔
ایورٹن کے مڈفیلڈر اڈریسا گوئی کو اپنی ہی ٹیم کے کھلاڑی مائیکل کین کے ساتھ جھگڑنے پر ریڈ کارڈ دیا گیا۔
17 سال بعد ایسا واقعہ پیش آیا ہے جب کسی کھلاڑی کو اپنی ہی ٹیم کے ساتھی سے جھگڑنے پر میدان سے باہر بھیج دیا گیا۔
یہ سارا واقعہ میچ کے 13ویں منٹ میں اس وقت شروع ہوا جب اڈریسا گوئی کے ایک غلط پاس کے نتیجے میں برونو فرنینڈس کا شاٹ گول پوسٹ کے قریب سے نکل گیا۔
گوئی نے بظاہر اس بات پر ناراضگی کا اظہار کیا کہ مائیکل کین نے ان کے پاس تک پہنچنے کی کوشش نہیں کی اور دونوں کھلاڑیوں نے ایک دوسرے کو دھکے دینا شروع کر دیے۔
اس کے بعد مڈفیلڈر گوئی نے اپنے ساتھی کھلاڑی کے چہرے پر تھپڑ مار دیا، جس پر ریفری ٹونی ہیرنگٹن نے انہیں سیدھا ریڈ کارڈ دکھا دیا۔
غصے سے بھرے گوئی کو گول کیپر جورڈن پکفورڈ کو روکنا پڑا، جنہوں نے دونوں کھلاڑیوں کو الگ کیا۔
37 سالہ گوئی عام طور پر ایک پرسکون کھلاڑی مانے جاتے ہیں اور ان کا اس قدر غصے میں آنا غیر معمولی تھا۔ تاہم، انہوں نے میچ کے بعد اپنی انسٹاگرام اسٹوری کے ذریعے کین، ایورٹن اور مداحوں سے معافی مانگی۔
انہوں نے کہا کہ جذبات بعض اوقات قابو سے باہر ہو جاتے ہیں، لیکن ایسا رویہ کسی صورت قابلِ قبول نہیں ہے، میں یقینی بناؤں گا کہ ایسا دوبارہ کبھی نہ ہو۔
ریڈ کارڈ اور ویڈیو اسسٹنٹ ریفری( VAR) کا فیصلہ
میچ کے دوران پریمیئر لیگ میچ سینٹر نے تصدیق کی کہ ریفری کے اس فیصلے کا VAR نے جائزہ لیا تھا۔
آن فیلڈ ریفری کا فیصلہ برقرار رکھا گیا کیونکہ اس کارروائی کو کین کے چہرے پر واضح وار قرار دیا گیا تھا۔ یہ عمل ‘تشدد پر مبنی رویے’ (Violent Conduct) کے زمرے میں آتا ہے، جو کہ ریڈ کارڈ کے قابلِ سزا جرم ہے۔
قوانین کیا کہتے ہیں؟
فٹبال ایسوسی ایشن کے مطابق جب کوئی کھلاڑی گیند کے لیے مقابلہ کیے بغیرکسی حریف یا ساتھی کھلاڑی، ٹیم آفیشل، میچ آفیشل، تماشائی، یا کسی بھی دوسرے شخص کے خلاف ضرورت سے زیادہ طاقت یا وحشیانہ قوت کا استعمال کرتا ہے یا استعمال کرنے کی کوشش کرتا ہے، چاہے جسمانی رابطہ ہو یا نہ ہو تو وہ تشدد پر مبنی رویہ کہلاتا ہے۔
اس کے علاوہ جو کھلاڑی گیند کے لیے مقابلہ کیے بغیر جان بوجھ کر ہاتھ یا بازو سے کسی حریف یا کسی دوسرے شخص کے سر یا چہرے پر وار کرتا ہے، تو وہ تشدد پر مبنی رویے کا مرتکب ہوتا ہے، جب تک کہ استعمال کی گئی طاقت بہت ہی معمولی نہ ہو۔
اس واقعے میں ریفری ہیرنگٹن اور VAR نے فیصلہ کیا کہ استعمال ہونے والی طاقت اس حد سے زیادہ تھی اور جان بوجھ کر کی گئی کارروائی تھی، لہٰذا ریڈ کارڈ کا فیصلہ درست تھا۔
ٹیم کی جیت: یونائیٹڈ کا ریکارڈ ٹوٹ گیا
11 کے بجائے 10 کھلاڑیوں کے ساتھ کھیل کر بھی ایورٹن میچ کا واحد گول کرنے میں کامیاب رہا اور گھر سے دور کھیلتے ہوئے مانچسٹر یونائیٹڈ کی5 میچوں کی ناقابل شکست مہم کو ختم کر دیا۔
اس غیر معمولی واقعے کے سنگین نتائج ہو سکتے ہیں۔ اب ایک امکان یہ ہے کہ آئندہ ماہ کے افریقہ کپ آف نیشنز سے پہلے گوئی دوبارہ ایورٹن کے لیے نہیں کھیل پائیں گے۔ یہ دیکھنا ابھی باقی ہے کہ ایورٹن پیر کے ڈرامے میں ان کے کردار پر مزید کوئی کارروائی کرتا ہے یا نہیں۔
ماضی کے واقعات
اس سے قبل ساتھی کھلاڑی سے لڑنے پر ریڈ کارڈ ملنے کا حالیہ واقعہ دسمبر 2008 میں پیش آیا تھا جب سٹوک سٹی کے ریکارڈو فلر نے ویسٹ ہیم یونائیٹڈ کے خلاف میچ کے دوران اپنے ہی کپتان اینڈی گرفتھ کو تھپڑ مارا تھا۔
ایک اور مشہور مثال 2005 میں تھی جب نیو کیسل یونائیٹڈ کے ساتھی لی بوئیر اور کیرن ڈائر کو ایسٹن ولا کے خلاف میچ میں ایک دوسرے پر مکے برسانے پر میدان سے باہر بھیج دیا گیا تھا۔